Monday, 13 January 2014

UK Muslims mark “unity week” with Love Mohammad event

UK Muslims mark “unity week” with Love Mohammad event


UK Muslims mark “unity week” with Love Mohammad event
(Ahlul Bayt News Agency) - It was with the sound of the Quran - that all Muslims believe to be the words of God revealed to the Prophet Muhammad (PBUH) that this event began. 

At a time when division between Muslims is being stoked, organisers hoped it would be a reminder of the pillars that unite all Muslims.

The prophet of mercy conference is an annual event that coincides with the anniversary of the birth of prophet Muhammad (PBUH) and the start of unity week organised by the World Forum for the Proximity of Islamic Schools of Thought.

Muslims from different cultures and sects attended, a reflection of the diverse Muslim community in the UK. Also present, were community leaders and politicians. In recent years, it sometimes seems that message of peace and unity has been lost. It is that crack that this initiative aims to mend.

Sunday, 12 January 2014

نانو ٹکنالوجی میں عالمی سطح پر ایران کا ساتواں نمبر

نانو ٹکنالوجی میں عالمی سطح پر ایران کا ساتواں نمبر

نانو ٹکنالوجی میں عالمی سطح پر ایران کا ساتواں نمبر
ابنا:  مہر نیوز کے مطابق ایران میں سائنس و ٹکنالوجی کے پریس سینٹر کے سربراہ جعفر مہر داد نے کہا ہے کہ نانو ٹکنالوجی میں ایران کو عالمی سطح پر اب ساتواں مقام حاصل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوہزار پانچ میں ایران کا نانو ٹکنالوجی میں پینتیسوان مقام حاصل تھا لیکن دوہزار تیرہ میں ایران نے ترقی کرکے ساتوان مقام حاصل کرلیا ہے۔ اسلامی ملکوں میں ایران کو نانو ٹکنالوجی میں پہلا مقام حاصل ہے۔ نانو ٹکنالوجی میں دوہزار گيارہ سے دوہزار تیرہ تک پہلے نمبر پر چین تھا جبکہ امریکہ اور جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر تھے۔ واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے سائنس و ٹکنالوجی کے مختلف شعبوں میں کافی پیشرفت کی ہے۔ ان شعبوں میں نانوٹکنالوجی، اسٹم سلز ٹکنالوجی، میڈیکل انجینیرنگ، میڈیکل شعبوں میں گردے اور مختلف اعضا  کی پیوند کاری نیز بانجھ پن کے علاج میں بے حد ترقی کی ہے۔

Saturday, 11 January 2014

ایران اسفنجی لوہا بنانے میں سب سے آگے

ایران اسفنجی لوہا بنانے میں سب سے آگے
ایران اسفنجی لوہا بنانے میں سب سے آگے
ابنا: فولاد مبارکہ اصفہان کے مینجنگ ڈائرکٹر بہرام سبحانی نے کہا کہ فولاد مبارکہ اصفہان میں دوہزار تیرہ میں اکیاسی لاکھ اکیس ہزار چار سو تراسی ٹن اسفنجی لوہا تیار کیا گيا تھا جس کے نتیجے میں یہ کارخانہ دنیا میں سب سے زیادہ اسفنجی لوہا بنانے والا کارخانہ بن گيا ہے۔ واضح رہے اسلامی جمہوریہ ایران میں لوہے کے کارخانوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ چالیس لاکھ پانچ ہزار اٹھائيس ٹن اسفنجی لوہا تیار کیا گیا ہے جس کی بنا پر ایران کو اسفنجی لوہا بنانے میں دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ پہلا نمبر ہندوستان کو حاصل ہے۔
 

Friday, 10 January 2014

شام: حلب میں 400 دہشت گرد ہلاک/ دہشت گردوں کی باہمی لڑائی جاری ہے

شام: حلب میں 400 دہشت گرد ہلاک/ دہشت گردوں کی باہمی لڑائی جاری ہے
 شام: حلب میں 400 دہشت گرد ہلاک/ دہشت گردوں کی باہمی لڑائی جاری ہے
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے 400 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں اور دوسری تنظیموں نے داعش کے ٹھکانوں پر قبضہ کرکے اس تنظیم کو دہشت گردوں کو مختلف علاقوں سے مار بھگایا ہے۔
جن تنظیموں نے تکفیری دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر قبضہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس تنظیم نے مختلف تنظیموں کے پچاس افراد کو ایک اسپتال میں کچھ عرصہ قید رکھنے کے بعد قتل کیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ دن پہلے موصولہ اطلاعات کے مطابق داعش نے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے 50 خبرنگاروں کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔
حلب میں داعش کے خلاف لڑنے والی دہشت گرد تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ داعش نے ان تنظیموں کو درجنوں افراد کو قید کرلیا ہے جبکہ داعش کا کہنا ہے کہ فری سیرین آرمی نے اس کے متعدد افراد کو پھانسی دی ہے۔
تکفیری گروپ "داعش" اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے درمیان لڑائی گذشتہ روز جمعہ سے شروع ہوئی ہے اور اب تک فریقین کے 400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
بعض تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلب میں بےشمار مسلح دہشت گردوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ 
شام: حلب میں خونی جھڑپوں کے بعد آپس کی لڑائی دمشق کے نواح میں

اطلاعات کے مطابق داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کی باہمی لڑائی دمشق کے نواح تک پہنچ گئی ہے اور وہاں بھی داعش کے متعدد ٹھکانوں پر دوسری تنظیموں نے کنٹرول حاصل کیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حلب میں سینکڑوں دہشت گردوں کی ہلاکت پر منتج ہونے والی لڑائی دمشق کے نواحی علاقے تک پہنچ گئی ہے اور القاعدہ کی ذیلی تنظیم جبہۃالنصرہ اور ترکی و مغرب کی حمایت یافتہ تنظیم آزاد شامی فوج (فری سیرین آرمی) نے مل کر داعش کے متعدد ٹھکانوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ان جھڑپوں میں دیرالزور میں احرار الشام نامی دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ بھی ہلاک ہوچکا ہے۔

داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جنگ پچھلے ہفتے سے جاری ہے اور حلب کے علاقے میں اس جنگ کے دوران برسرپیکار تنظیموں کے 400 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
خبر کی تفصیل:
شام: دو آذری دہشت گرد شامی فوج کے حملے میں ہلاک

جمہوریہ آذربائی جان کے دو دہشت گرد ـ جو شام پہنچ کر القاعدہ کی ذیلی شاخ جبہۃالنصرہ میں شامل ہوچکے تھے ـ شامی افواج کے حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آذربائی جان کے ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ اس جمہوریہ کے دو دہشت گرد "نامیک عسکروف" اور "سلطان المعروف سیف آذری" ـ شام جاکر دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ میں شامل ہوچکے تھے ـ اس تنظیم کے ٹھکانوں پر سرکاری افواج کے حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
خبر کی تفصیل کے لئے رجوع کریں:
شام: دہشت گرد ترکی کی جانب بھاگنے لگے/ حلب داعش سے خالی

اطلاعات کے مطابق بعض مسلح گروہوں میں شامل دہشت گرد جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد ترکی کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام میں دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد متعدد دہشت گردوں ترکی کی سرحدوں کی طرف فرار ہوگئے ہیں جن میں احرار الشام نامی دہشت گرد تنظیم کا ایک سینئر کمانڈر بھی شامل ہے۔

ادھر شام کے فوجی ذرائع نے حلب کے علاقے "الراشدین" میں "نورالدین زنگی یونٹس" نامی دہشت گرد تنظیم کے آپریشن کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

شام مخالف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے "سیرین ہیومین رائٹس واچ" نامی ادارے نے کہا ہے کہ حلب شہر دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام" (داعش) نامی دہشت گرد تنظیم کے جنگجؤوں سے خالی ہوچکا ہے اور داعش کے اراکین دوسری تنظیموں سے لڑنے کے بعد اس شہر سے فرار ہوچکے ہیں۔ 
خبر کی تفصیل کے لئے رجوع کریں:
سیدہ سکینہ(س) کے حرم مطہر کو دہشت گردوں سے آزاد کرالیا گیا

شام کی سرکاری افواج نے دارالحکومت کے مغربی نواح میں داریا کے علاقے میں کاروائی کرکے حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کے گرد سیکورٹی حلقہ قائم کیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کی افواج نے دارالحکومت دمشق کے مغربی نواحی علاقے "داریا" میں کاروائی کرکے سیدہ سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کو دہشت گردوں سے آزاد کرایا ہے اور العالم کی ٹیم سب سے پہلی ٹیم تھی جو حرم میں داخل ہوکر وہاں کی تصویریں بھجوادیں۔

اطلاعات کے مطابق حرم کے گنبد اور اس کے اندرونی حصوں کو تکفیری دہشت گردوں نے بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

العالم کے مقامی ڈائریکٹر نے حرم سیدہ سکینہ(س) سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا: شہر "داریا" سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کے حوالے سے عالمی شہرت کا حامل ہے تاہم تکفیریوں نے اس شہر پر قبضہ کیا تو اس شہر کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں شدید ترین جھڑپیں ہوئی اور مسلح تکفیری دہشت گردوں نے حرم میں داخل ہوکر اس کو بھاری نقصان پہنچایا اور اس کو اپنے ہیڈکوارٹر میں بدل دیا۔

سعودی عرب کروڑوں ڈالر اس کام پر خرچ کرتا ہے کہ دنیا میں شیعت کا چہرہ مسخ کیا جائے۔

سعودی عرب کروڑوں ڈالر اس کام پر خرچ کرتا ہے کہ دنیا میں شیعت کا چہرہ مسخ کیا جائے

 سعودی عرب کا صرف شیعوں کے خلاف سازشوں پر خرچ ہونے والا بجٹ کئی ملکوں کے سالانہ بجٹ کے برابر ہے اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی بادشاہ کے ایک پوتے نے پیرس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سعودی عرب کی طرف سے شیعوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے پردہ برداری کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ دنیا میں شیعت کا چہرہ مسخ کیا جائے۔

ترکی بن بندر بن محمد بن عبد الرحمن آل سعود نے سعودی عرب میں ’’روافض‘‘ نامی انٹیلی جنس ادارے کے پائے جانے کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ایک سال میں جتنا بجٹ شیعوں کے خلاف سازشوں اور پروپیگنڈوں میں خرچ کرتا ہے اتنا اردن، تیونس اور یمن کا کل سالانہ بجٹ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے درباری مفتیوں کو بے تحاشہ مال دیتا ہے تاکہ وہ شیعت کا چہرہ مسخ کریں۔
ترکی بن بندر آل سعود نظام کے خلاف ہیں اور پیرس میں رہتے ہیں انہوں نے پیرس میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا کہ شیعت کے خلاف وہابیت کا عقیدہ بالکل باطل ہے شیعہ جو امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے جاتے ہیں وہ خدا کے تقرب کے لیے جاتے ہیں جبکہ سلفی شیعوں کا قتل عام کر کے شیطان کا تقرب حاصل کرتے ہیں گر چہ وہ اپنے زعم باطل کے مطابق خدا کا تقرب حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: شیعہ اپنے اس عمل سے کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوتے لیکن سلفی وہابی بے گناہ انسانوں کا قتل کر کے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتے ہیں اور اسلام نے شدت سے اس کام سے منع کیا ہے۔ سلفی کسی بھی صورت میں اہلبیت(ع) کے پیروکاروں کو قتل کرنے کا حق نہیں رکھتے اس لیے کہ وہ ان سے صرف نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کے سابق رکن کہ جو اس ملک کے نظام پر اعتراض کرنے کی وجہ سے درباری مفتیوں کے ذریعے کافر متہم ہوئے تھے نے مزید کہا: میں پہلے یہ سنا کرتا تھا کہ شیعہ ابو بکر، عمر اور عثمان کو نہ ماننے کی بن پر کافر ہیں لیکن اب میرے لیے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جو بھی کسی سیاسی حاکم کی مخالفت کے لیے زبان کھولتا ہے درباری مفتی اس پر کافر ہونے کا فتویٰ لگا دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ابوبکر، عمر اور عثمان سیاسی حکمران تھے اور ہر کوئی حق رکھتا ہے کہ وہ ان کی مخالفت کرے اس لیے کہ یہی ڈیموکریسی ہے۔ شیعوں کو ’’رافضی‘‘ بھی اسی وجہ سے کہا گیا تھا لیکن میری نظر میں شیعہ کسی غلطی کا مرتکب نہیں ہوئے۔
انہوں نے سعودی عرب کی ’’روافض‘‘ نامی انٹیلی جنس ادارے کے بارے میں کہا کہ یہ ادارہ جس کا بجٹ تیونس، اردن  اور یمن کے کل بجٹ کے برابر ہے اس کا کام یہ ہے کہ مذہب تشیع کا چہرہ دنیا میں مسخ کر کے پیش کرے اور موسم حج میں شیعوں کے خلاف ہزاروں کتابیں شائع کر کے لوگوں کو شیعہ نسل کشی کی تبلیغ کرے۔
ترکی بن بندر نے اپنے انکشافات میں مزید کہا کہ اس دور میں جب میں وزارت داخلہ کا رکن تھا اس وارت نے لبنان کے ایک مولوی کو جو آل سعود کا مزدور تھا سات میلین ڈالر دے کر خریدا تاکہ وہ شیعہ مخالف سیٹلائٹ چینل کھولے اور اس میں شیعوں کی توہین کرے، اس میں عزاداری کو بدعت کہا جائے، عمر بن خطاب کو حضرت فاطمہ زہرا(س) کا قاتل نہ ٹھرایا جائے، آیت’’ لا تقربو الصلاۃ و انتم سکاریٰ‘‘ کو حضرت علی بن ابی طالب کے حق میں قرار دیا جائے اور اشہد ان علیا ولی اللہ کو اذان سے حذف کیا جائے۔
انہوں نے تاکید کی: اس مولوی کی موت کے بعد نئے مزدوروں نے اس راستے کو جاری رکھا اور ابھی بھی ہم دیکھ رہےہیں کہ کروڑوں ڈالر عراق میں تشیع کا نام بگاڑنے کے لیے خرچ کئے جا رہے ہیں لیکن یہ تمام تر تلاش و کوشش بے فائدہ ہے چونکہ صرف جاہل لوگ ان پروپیگنڈوں میں الجھتے ہیں۔
ترکی بن بندر نے آخر میں کہا: میں انشاء اللہ عنقریب فرانس کی شہریت حاصل کر لوں گا اور یہاں کے پارلیمنٹ الیکشن میں حصہ لوں گا اس لیے سعودی عرب ایسا ملک ہے جس کے حکمران ۲۴ گھنٹے صرف اوقات نماز کے علاوہ شراب پینے میں مشغول رہتے ہیں قوم کا مال لوٹ گھسوٹ کر لاتے ہیں اور اس مال سے رقاص عورتیں اور جلاد مرد خریدتے ہیں۔

Thursday, 9 January 2014

سعودی حکومت باز آجائے ورنہ ریاض کو ہلا کر رکھ دینگے، عراقی گروہ کی دھمکی

 سعودی حکومت باز آجائے ورنہ ریاض کو ہلا کر رکھ دینگے، عراقی گروہ کی دھمکی
سعودی حکومت باز آجائے ورنہ ریاض کو ہلا کر رکھ دینگے، عراقی گروہ کی دھمکی
ابنا: حال ہی میں عراق سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے مسلح گروہ نے سعودی عرب کو یہ دھمکی دی ہے کہ امریکہ نواز سعودی حکمران عالم عرب میں تباہی کے ذمہ دار دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور امداد سے باز نہ آئے تو وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنائیں گے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عصائب اہل حق نامی گروپ کے سیکرٹری جنرل قیس الخازلی نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی حکومت القاعدہ اور القاعدہ سے منسلک دہشت گردوں کی سرپرستی کو ترک نہیں کرے گی تو ایسا وار کریں گے کہ انہیں سنبھلنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو پروان چڑھانے والے سعودی حکمرانوں کو خطے میں بدامنی پیدا کرنے اور دوسرے ممالک میں مداخلت کرنے کی بجائے اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل حزب اللہ لبنان کیطرف سے بھی یہ موقف بیان کیا گیا تھا کہ بعض عرب ممالک عراق اور شام میں حالات کو خراب کرنے کے ساتھ ساتھ بیروت میں ہونے والے دھماکوں کے بھی ذمہ دار ہیں۔
 

Tuesday, 7 January 2014

میلادالنبی کے جلوسوں کی راہ میں رکاوٹوں کو برداشت نہیں کیاجائےگا،علما اہلسنت کا عزم


 میلادالنبی کے جلوسوں کی راہ میں رکاوٹوں کو برداشت نہیں کیاجائےگا،علما اہلسنت کا عزم
ابنا: ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ بانیان پاکستان کی اولادیں ملک کی سلامتی کے لئے متحد ومنظم ہیں ، ملک کے ٹکڑے کرنے کی باتیں بیرونی ایجنڈے کا شاخسانہ ہے۔
پاکستان سنی تحریک ہر ایسی قوت کے خلاف سینہ سپر ہوگی جو ملک کے خلاف زہر اگلنے اور لسانیت کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کی بات کررہے ہیں، محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ عاشقان رسول  صلی الله علیہ وآله وسلم ربیع النور کی تیاریاں تیز کردیں۔ مرکز اہلسنت پر  صوبائی صدور سے بات چیت کرتے ہوئے ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ دھونس ، دھمکی، دہشتگردی ہمیں جشن ولادت منانے سے نہیں روک سکتی، حکومت ملک بھر میں جشن عید عید میلاد النبی صلی الله علیہ وآله وسلم کے جلسے ، جلوسوں ،محافل نعت کی تقریبات کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے۔
ادہر جمعیت علماء پاکستان کے سابق سینئر نائب صدر اور جمعیت علماء پاکستان کی نگراں مرکزی عاملہ کے رکن علامہ شاہ محمد اویس نورانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 11 اور 12 ربیع الاول کو عام تعطیلات کا اعلان کیا جائے نیز ان تعطیلات کو سالانہ تعطیلات کے شیڈول میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول کو پورے ملک میں جلسے اور جلوس منعقد کیے جائیں گے جن پر کسی قسم کی پابندی قابل قبول نہیں۔
درایں اثنا علامہ شاہ تراب الحق قادری نے کہا ہے کہ حضورکا میلاد، غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کے سلوگن کے تحت منائیں گے۔ انہوں نے یہ بات کراچی کی سنی تنظیموں، میلاد انجمنوں کےمشترکہ اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس سے نظام مصطفی پارٹی کے سرپرست حاجی محمد حنیف طیب ، سنی اتحاد کونسل کےمولانا فیصل عزیزی، تنظیم المساجد کے مفتی عابد مبارک اور دیگر تنظیموں کےنمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
حاجی حنیف طیب نے کہا کہ میلاد النبی(ص) کے جشن میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں ، تمام ذمہ دار ادارے اپنی کارکردگی کو مربوط اور بہتر بنائیں، رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ بالکل ختم کی جائے۔ فل پروف سیکورٹی کے لئے بھرپور عملی اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں قائدین نے کہا کہ خوف ودہشت کی فضاء ہمیں نبیي کا میلاد منانے سے نہیں روک سکتی۔ ہم نے خدشات سے حکومتی اداروں کو آگاہ کردیا ہے۔
رہنماؤں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ ہر شخص آزادی کے ساتھ جشن ولادت رسول(ص) مناسکے۔ ابرار رحمانی نے کہا کہ مرکزی میلاد جلوس نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ ایم اے جناح روڈ سے برآمد ہوگا۔
واضح رہے کہ بعض انتہا پسند کالعدم تنظیموں منجملہ دہشت گرد تنظیم سپاه صحابه اور سعودی دربار سے وابستہ عناصر نے جشن عید میلاد النبی صلی الله علیہ وآله وسلم کے جلوسوں اور محافل میلاد کے پروگراموں کے خلاف سازشیں رچنی شروع کر دی ہیں۔   

Monday, 6 January 2014

آل سعود پر روس کی اتمام حجت: سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو تکلیف دہ جواب دیں گے

آل سعود پر روس کی اتمام حجت: سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو تکلیف دہ جواب دیں گے


اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ولگا گراد میں بم دھماکوں پر باضابطہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس آل سعود کے زیر سرپرستی دہشت گردوں کو دردناک اور تکلیف دہ جواب دیں گے۔
اخبار الاوسط نے روسی شہر میں دو دہشت گردانہ حملوں پر صدر ولادیمیر پیوٹن کے رد عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان واقعات کا ماسٹر مائند آل سعود کے زیر فرمان دہشت گرد ہیں اور انہیں بہت جلد نہایت دردناک اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا: ولگا گراڈ کے دھماکوں کے بارے میں کسی قسم کی تفتیش و تحقیق کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ دھماکے بالکل اسی قسم کے تھے جو ہر روز عراق، شام اور لبنان میں ہورہے ہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ ان دھماکوں کے پس پردہ کون ہے؟
صدر پیوٹن نے کہا: میں مجرموں کو مزید موقع نہیں دوں گا اور ہمارا جواب بہت جلد مشرق وسطی کا نقشہ بدل دے گا اور روس کے فرزندوں کے لئے میرا وعدہ ہے۔ 
دریں اثناء قبل ازیں وفاقی روس کے سیکورٹی ادارے کے ڈائریکٹر "الکزینڈر پورتینکوف" نے روس میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں اپنی اخری رپورٹ صدر پیوٹن کو پیش کی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق ان دھماکوں میں سے ایک دھماکہ شام میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولے کے ایک رکن دہشت گرد نے کیا تھا۔ 
اسی سلسلے میں آفاق ٹیلی ویژن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صدر پیوٹن کے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے پھیلاؤ کے لئے مالی امداد فراہم کرنے اور انسانی حقوق کے خلاف جرائم کا ارتکاب کا ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے، سعودی عرب پر حملہ کریں گے۔
مشرقی یورپ کی چیک جمہوریہ کے رہنے والے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کہا کہ ولگا گراد کے دھماکوں کی نشانیاں شمالی قفقاز اور چیچنیا تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان واقعات کے تانے بانے سعودی عرب سے جا ملتے ہیں۔
چیک تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات کے پس پردہ عوامل تک پہنچنے کے لئے اس مکالمے کی طرف توجہ دینی چاہئے جو بندر بن سلطان کے دورے اور پیوٹن کے ساتھ ان کی ملاقات میں انجام پایا تھا اور بندر نے مختلف قسم کی تجاویز پیش کرکے شام کے سلسلے میں روس کا موقف بدلنے کی کوشش کی تھی لیکن پیوٹن کا چیال ہے کہ شام کے موجودہ حکمران شامی عوام کے لئے بہترین ہیں اور ان کا کوئی متبادل نہيں ہے۔ 
ولگا گراد میں حالیہ دو دھماکوں کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک اور 102 زخمی ہوئے تھے۔


Sunday, 5 January 2014

عراق: تکفیریوں کے خلاف سنی ـ شیعہ اتحاد/ فلوجہ تکفیریوں سے آزاد/ متعدد تکفیری کمانڈر ہلاک

عراق: تکفیریوں کے خلاف سنی ـ شیعہ اتحاد/ فلوجہ تکفیریوں سے آزاد/ متعدد تکفیری کمانڈر ہلاک
  اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا سے لے کر مشرق وسطی تک اسلامی سرزمینوں کو بدترین صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ تکفیری گروپ پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور لبنان میں سرگرم ہیں اور آل سعود سمیت خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے حکمران ان تکفیریوں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں گوکہ مسئلے میں تھوڑا سا غور کرکے معلوم ہوتا ہے کہ اس بھونڈے فعل میں ان کا کوئی مفاد نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ یہودی ریاست کے بچاؤ اور امریکی تسلط کا تحفظ کرنے کے لئے ہورہا ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں اور یہ حکمران بھی جانتے ہیں کہ تکفیری دہشت گردوں کے پالنے سے پالنے والوں کو عظیم ترین نقصانات اٹھانا پڑ  سکتے ہیں اور آج بعض مسلم ممالک دہشت گردوں کی تربیت کی قیمت اندرونی بدامنی اور معاشی و معاشرتی بدحالی کی صورت میں ادا کررہے ہیں اور یہ صورت حال ان کے ممالک میں بھی رونما ہوسکتی ہے گوکہ بعض اوقات دہشت گردوں کی حمایت کی قیمت بیرونی حملوں کی صورت میں بھی ادا کرنا پڑتی ہے جس کی مثالیں کم نہیں ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں<
عراق اور شام کو خاص طور پر دشوار صورت حال کا سامنا ہے اور لبنان کو بھی اسی قسم کی حالت کا سامنا ہے۔ دشمن گھر میں گھس کر گھر کے ایک رکن کے طور پر دشمنی کرنا چاہتا جس کی وجہ سے بعض گھر والے بھی اس کو گھر کا رکن سمجھ کر گھروالوں کے خلاف ہوجاتے ہیں اور یہ اسرائیلی اور امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس نے دوست اور دشمن کی جگہ مسلم اقوام کے لئے بدل دی ہے اور دشمن دوست بن گیا ہے اور دوست کو اوہام و ظنون کے اس طوفان میں دشمن کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ فرقہ واریت وہ عذاب ہے جس کے ضرر و زیان سے سب آگاہ ہیں اور سب اس انگریزی فارمولے سے واقف ہیں اور اس کو دہراتے ہیں کہ Divide and Rule اختلاف ڈالو اور حکومت کرو لیکن عملی طور پر دشمنان اسلام کے اس قاعدے کے نفاذ کے لئے کام کرتے ہیں یا پھر خاموش رہ کر اس کے نفاذ میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
ویسے تو امت کے ہمدردوں نے چلا چلا کر سب کو بتایا کہ شام میں دہشت گردوں کی حمایت نہ کرو ورنہ جنہوں نے یہ آگ بھڑکائی ان کا دامن بھی پکڑ لے گی اور خطے کے دوسرے ممالک کو بھی متاثر کرے گی لیکن دہشت گردوں کے حامی نہ مانے اور آج نہ صرف دہشت گردی کا حامی ملک ترکی مسائل سے دوچار ہوگیا ہے بلکہ دہشت گردوں کے حامی عراق کو بھی اسی آگ میں دھکیل رہے ہیں اور اس ملک کے حالات خراب کئے جارہے ہيں چنانچہ عراقیوں نے پڑوسیوں کی عدم خیرسگالی اور پرامن بقائے کے اصولوں کی پامالی سے مایوس ہوکر خود ہی اپنے بچاؤ کی تدبیر کی اورآل سعود اور قطر کے حمایت یافتہ دہشت گردوں پر ایسے حال میں ہلہ بول دیا کہ انھوں نے طے کيا تھا کہ تین ہفتے بعد صوبہ الانبار میں حکومت تشکیل دیں گے اور ایک عرب ریاست بھی اس کو فوری طور پر تسلیم کرے گی لیکن اب ان کا یہ سپنا دھرا کا دھرا رہ گیا ہے۔
عراقی فوج، پولیس اور سنی و شیعہ قبائل نے ایک اتحاد تشکیل دیا اور اس اتحاد نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا اور صرف کل کل کے دن القاعدہ یا داعش کے 100 دہشت گرد مارے گئے جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کرائے کے دہشت گرد بھی شامل تھے اور فلوجہ اور رمادی میں ان مقامات کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے جن پر داعش نے پرچم لہرائے تھے اور اپنے طرز کی اسلامی حکومت کا اعلان کیا تھا۔ 
رائٹرز کے مطابق دہشت گردوں نے جمعہ کے دن سیاہ لباس میں ملبوس کرکے کئی جگھوں اسلحہ کی نمائش کی لیکن ہفتے اور اتوار کو حالات بدل گئے۔ کیونکہ سنی اور شیعہ قبائل اور سرکاری افواج متحد ہوئے اور انھوں نے غیر ملکی ایماء پر عراقیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ جنگ کا آغاز کیا۔
اطلاعات کے مطابق سنی عمائدین نے کہا ہے کہ ان کے مرکزی حکومت کے ساتھ کچھ اختلافات بھی ہیں لیکن القاعدہ کا خطرہ ان اختلافات سے کہيں زیادہ بڑا ہے چنانچہ ابتدائی طور پر عراق کو دہشت گردوں سے خالی کرایا جائے گا اور اسکے بعد حکومت کے ساتھ اپنے مطالبات کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔
ادھر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ وہ الانبار اور سنی قبائل کے حقیقی فرزندوں کے ساتھ بات چـیت کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن وہ ان لوگوں کے ساتھ ہرگز بات چیت نہيں کریں گے جو غیر ملکوں کے مفادات کے لئے اپنے ملک کو بدامنی سے دوچـار کر رہے ہیں۔
سنی قبائل نے کہا ہے کہ انھوں نے القاعدہ کے دہشت گردوں کو اپنے ہمدردوں کے عنوان سے کافی عرصے سے پناہ دے رکھی ہے لیکن ان کی درندگی اور غیر انسانی کرتوتوں کو دیکھ کر اب وہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ پورے عراقی عوام کے لئے مشترکہ خطرہ ہے جس سے سب کو مل کر نمٹنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ عراق میں القاعدہ کے کئی اہم کمانڈر ان ہی دنوں کاروائی کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ الانبار کے چالیس اراکین پارلیمان نے القاعدہ کے خلاف فوجی کاروائی پر احتجاج کرتے ہوئے استعفے دیئے تو عراقی فوج الرمادی اور الفلوجہ اور دیگر علاقوں سے پسپا ہوئی لیکن ان کے پسپا ہوتے ہی القاعدہ کے دہشت گردوں نے ان شہروں پر قبضہ کیا جس کی وجہ سے نوری المالکی نے پسپائی کی ہدایات واپس لیتے ہوئے فوج کو ایک بار پھر شہری علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کا حکم دیا اور کہا کہ علاقے کے تمام سنی قبائل کے زعماء نے فوجوں کے انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے فوجی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
الانبار کے ایک قبیلے کے سربراہ نے نام نہ بتانے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا: القاعدہ کو الانبار میں ٹھکنے کی جگہ نہيں دی جاسکتی۔۔۔ گھمسان کی جنگ ہورہی ہے اور القاعدہ کے دہشت گرد رہائشی علاقوں میں چھپ گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ لڑائی پیچیدہ بھی ہے کیونکہ فوج کو عوام کی جان و مال کا خیال ہے چنانچہ وہ اندھادھند کاروائی نہيں کرسکتی۔
ادھر ایک قبیلے کے سربراہ اور قبائلی فورسز کے کمانڈر شیخ رافع عبدالکریم ابوفهد نے کہا: یہ انتہا پسند مجرم ہیں جو شہروں کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان شہروں کے تمام باشندوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔
ادھر آژانس فرانس پریس کے مطابق الصحوہ (بیداری) فورسز کے ترجمان شیخ احمد ابو ریشہ نے کہا کہ دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش) کی دہشت گرد تنظیم کے 62 اہم دہشت گرد مارے گئے ہیں جن میں الانبار میں داعش کا کمانڈر ابو عبدالرحمن البغدادی بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ الصحوہ فورسز اہل سنت کے مختلف قبائل کے جوانوں سے تشکیل یافتہ ہیں جنہوں نے آج سے کئی سال قبل انتہا پسند دہشت گردوں کو کچلنے میں مرکزی حکومت کی مدد کی تھی۔
کہ دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش) کا ابتدائی نام داع تھا یعنی دولۃ الاسلامیۃ في العراق لیکن شام میں صہیونی ـ یہودی ریاست کے تحفظ کے لئے قطر، سعودی عرب اور ترکی کی طرف سے جنگ کا آغاز ہوا تو اس دہشت گرد تنظیم نے اپنا نام بدل دیا اور کہ دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش) کہلائی گوکہ شام کی حد تک ایمن الظواہری نے اس گروہ کی کاروائیوں کو ناجائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو عراق تک محدود رہنا چاہئے لیکن شام کی حدود میں داعش اب القاعدہ کی باغی شاخ سمجھی جاتی ہے جبکہ جبہۃالنصرہ کو الظواہری کی حمایت حاصل ہے۔

عراق: فلوجہ کو القاعدہ کے دہشت گردوں سے چھڑا لیا گیا
فلوجہ کے قبائل نے اعلان کیا ہے کہ یہ شہر مزید القاعدہ کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق سعودی چینل العربیہ نے فلوجہ کے قبائلی زعماء کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یہ شہر القاعدہ کے مسلح دہشت گردوں کے کنٹرول میں نہیں رہا۔
یہ خبر ایسے حال میں منظر عام پر آئی ہے کہ عراقی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ شام اور اردن سے ملنے والے صوبے الانبار میں کاروائی کے دوران القاعدہ کی ذیلی تنظیم داعش کے 55 دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں۔
تفصیل کے لئے رجوع کریں

سعودی عرب کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔

سعودی عرب کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے
 روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے روسی شہر وولگوگارڈ میں ہوئے حالیہ حملوں میں سعودی عرب کا ہاتھ ثابت ہونے کے حوالے سے کہا کہ سعودی عرب کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ 

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس کے صدر جمہوریہ ولادیمیر پوٹن نے وولگوگارڈ میں ہوئے حالیہ حملوں کے بارے میں کہا کہ ان دھماکوں کے بارے میں تحقیق کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ ان کے مشابہ دھماکے شام، عراق اور لبنان میں ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں روس کے لوگوں کو وعدہ دیتا ہوں کہ ہم مجرموں کو امان نہیں دیں گے اور وولگو گارڈ میں دھماکے کرانے والوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچا کر چھوڑیں گے۔روس کے صدر کا یہ بیان ایسے حال میں سامنے آیا جب سعودی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اور انٹیلی جنس کے سربراہ بندر بن سلطان کی پوٹن سے ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق بندر بن سلطان نے اس دھماکے سے پہلے روس کو دھمکی دی تھی۔روسی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ وولگوگارڈ کے دھماکوں میں سعودی عرب کا ہاتھ واضح ہے لہذا سعودی عرب کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔

روس: دہشتگردانہ بم دھماکوں میں سعودی عرب ملوث

روس: دہشتگردانہ بم دھماکوں میں سعودی عرب ملوث

 ابنا: زیمانیک نے کہا ہے کہ روس کے جنوبی شہرولگوگراڈ میں ہونے والے بم دھماکوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہےکہ ان بم دھماکوں کے ذمہ دار چیچن ہیں لیکن اس دہشتگردی کا سرا دراصل سعودی عرب سے جاملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، شام میں شکست کھانے کے بعد اب روس سے انتقام لے رہا ہے۔ جمہوریہ چک کے اس سیاسی مبصر اور صحافی نے کہا کہ صہیونی ریاست اور سعودی عرب مشترکہ ہدف کے لئے متحد ہوچکے ہیں اور یہ ہدف شام اور ایران کے خلاف جنگ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور صہیونی ریاست، ایران اور شام کو اپنے راستے میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

Friday, 3 January 2014

جب ہجرت پیغمبر(ص) ربیع الاول میں ہوئی تو کیوں اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم کو قرار دیا گیا؟

جب ہجرت پیغمبر(ص) ربیع الاول میں ہوئی تو کیوں اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم کو قرار دیا گیا؟

ابنا: علیکم السلام

پہلے سوال کا جواب: پیغمبر اکرم(ص) نے ۲۶ صفر کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تین دن غار ثور میں رہے اور پہلی ربیع الاول کو مکہ کی سرحد سے نکل کر یثرب میں داخل ہوئے اور ۸ ربیع الاول کو مدینے کے قریب قبا نامی جگہ پر مسجد قباء کی بنیاد ڈالی اور ۱۲ ربیع الاول کو مدینے میں پہنچے۔

دوسرا سوال یہ کہ جب ہجرت ماہ ربیع الاول میں ہوئی تو کیوں ماہ محرم کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا؟ اس سوال کے جواب میں یوں عرض کیا جائے کہ مسلمانوں نے واقعہ ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دیا ناکہ سال کا پہلا مہینہ۔ چونکہ پیغمبر کے دور بلکہ آپ سے پہلے بھی عربوں کے یہاں سال کی ابتدا ماہ محرم سے ہی ہوتی تھی چونکہ عرب حج سے فارغ ہو کر ماہ محرم میں اپنے تجارتی کاروبار کا آغاز کرتے تھے اس وجہ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے تھے۔

تاریخ میں نقل ہے کہ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں اکابر صحابہ منجملہ امیر المومنین(ع) کو بلوا کر اس سلسلے میں مشورہ کیا کہ اسلامی کلینڈر تشکیل دیا جانے کی صورت میں اسلام کے کس واقعے کو مبداءتاریخ قرار دیا جائےتو سب نے مختلف آراء پیش کیں لیکن کوئی رائے تصویب نہیں ہوئی بالاآخرے حضرت علی علیہ السلام کے مشورے سے ہجرت کو مبداء تاریخ اسلامی قرار دے دیا گیا۔ اور محرم چونکہ پہلے سے ہی سال کا پہلا مہینہ تھا اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں۔
 

عوام کے گھروں پر سکیورٹی فورس کے ناجائز چھاپے/ مظالم کے خلاف منامہ میں مظاہرے

عوام کے گھروں پر سکیورٹی فورس کے ناجائز چھاپے/ مظالم کے خلاف منامہ میں مظاہرے
 آل خلیفہ کے مزدوروں کے شہر الدراز میں لوگوں کے گھروں پر غیر قانونی طور پر چھاپے، ۱۰ جوان گرفتار/ منامہ میں نماز جمعہ کے بعد حکومت مخالف مظاہرے۔ 
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آل خلیفہ کے مزدوروں نے بحرین کے شہر الدراز  میں لوگوں کے گھروں پر ناجائز چھاپے مار کر ۱۰ جوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
بحرین کے سیاسی فعال افراد کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے گئے جوانوں میں سے دو جوانوں کو شدید مار پیٹ کیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو ان کی وجہ سے سخت نگرانی لاحق ہے۔
بحرین کی سکیورٹی فورس نے جمعرات کو الدراز، بنی جمرہ،جنوسان، القدم، شہد اور دیگر علاقوں کا محاصرہ کیا تھا۔
جمعیت الوفاق نے اس کے رد عمل میں کہا ہے کہ لوگوں کے درمیان دھشت پھیلانا، غیر قانونی طور پر گھروں پر چھاپے مارنا اور جوانوں کو گرفتار کر کے انہیں مار پیٹ کرنا یہ اس حکومت کی ظالمانہ سیاسیت کا حصہ ہے جسے ملت بحرین تین سال سے بردارشت کرتی آ رہی ہے۔
الوفاق نے تاکید کی ہے کہ اس طرح کی گرفتاریوں کا سلسلہ گویا اس نظام حکومت کا اپنے شہریوں کے ساتھ ایک طرح کا رویہ ہے جس کی وجہ سے اس ملک کی جیلیں بحرینی جوانوں سے بھری پڑی ہیں۔
 معیت الوفاق کے سربراہ شیخ علی سلمان نے تاکید کی ہے کہ حکومت مخالفین قومی تحریک میں پر امن طریقے کے پابند رہیں گے اور کسی بھی طرح کی کشیدگی سے کام نہیں لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ملک میں سوائے ظلم اور جور کے اور کچھ نہیں دیکھ رہے ہیں اور یقینا اس صورت حال کو بدلنا 
ہو گا ہمیں امید ہے کہ نیا سال حقوق کی بازیابی کے لیے اس قوم کے حق میں ثابت ہو۔
ادھر منامہ میں آج نماز جمعہ کے بعد ہزاروں بحرینیوں نے  پر امن مظاہرے کر کے ’’آزادی، کرامت اور ڈیموکریسی‘‘ کے نعرے بلند کئے اور حکومت کی طرف سے مظاہرین کی سرکوبی کو حکومت کی کمزوری قرار دیا۔ مظاہرین نے  اس بات کا مطالبہ کیا کہ اگر حکومت ملک میں امن و شانتی چاہتی ہے تو عوام کے مطالبات پورا کرے اور ان کے ضائع شدہ حقوق انہیں واپس لوٹائے۔
 
کرسمس پائن پر سید حسن نصراللہ کی تصویر صہیونیوں کو تشویش!
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک سنہ 214 کے آغاز سے پہلے یہودی ـ صہیونی ریاست کے ایک اخبار "یدیعوت آحارونوت" نے لبنان میں عیسائیوں کے جشن کرسمس کے سلسلے میں اپنے ایک مضمون میں ایک لبنانی عیسائی خاتون کے جشن کرسمس پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے اور اسلامی مزاحمت تحریک کے سربراہ اور حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے بارے میں لبنانی عیسائیوں کے جذبات پر روشنی ڈالی ہے۔
مذکورہ اخبار نے لکھا: لبنان کے ٹی وی چینل "المنار" نے گذشتہ برسوں کی طرح امسال بھی حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کے یوم ولادت کے موقع پر بیروت کے مختلف محلوں، دمشق کے گرجا گھروں اور فلسطین کے بیت لحم میں واقع المہد گرجاگھر میں بپا ہونے والے جشن کرسمس کو کوریج دی لیکن ان تمام رپورٹوں میں سب سے دلچسپ لبنانی عیسائی خاتون "رندہ غلام" کا گھریلو جشن تھا جو ہر سال کرسمس پائن پر سید حسن نصراللہ کی تصویر لٹکا کر اس موقع پر جشن مناتی ہیں۔  

عیسائی خاتون رندہ غلام کا کہنا ہے: میں کرسمس ٹری پر سید حسن نصراللہ کی تصویر اس لئے لٹکاتی ہوں کہ میں انہیں اللہ کی طرف سے اپنے لئے تحفہ سمجھتی ہوں، ہم ان پر حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ انھوں نے ہمارے لئے بہت بڑی کامیابیاں اور فتوحات حاصل کی ہیں اور بہت اہم فیصلے کئے ہیں۔ 
رندہ غلام جو عیسائیت کے آرتھوڈاکس فرقے کی پیروکار ہیں، کہتی ہیں: مختلف مواقع پر جب سید حسن نصراللہ کو عوام کے مجمع میں دیکھتی ہوں تو میں بہت اچھا محسوس کرتی ہیں اور میرے ہاتھ میں جو تسبیح ہے یہ وہ تحفہ ہے جو سید حسن نے مجھے عطا کیا ہے۔
 

ْ
رندہ غلام کہتی ہیں: میں منطقۃ الشرقیہ میں القداس نامی کلیسا میں جانا چاہتی ہوں اور صلح و امن کے لئے دعا کرنا چاہتی ہوں اور خدا سے التجا کرتی ہوں کہ نیا سال دنیا کے تمام انسانوں کے لئے فلاح و بہبود اور فراخی کا سال ہو کیونکہ خاص طور پر شام میں قتل عام اور کشت و خون کی وجہ سے کرسمس کی خوشیاں اس سال ادھوری ہیں۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ شام کے معلولا شہر سے دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والی راہبائیں جلد از جلد رہا ہوجائیں۔
قابل ذکر ہے کہ یہودی ریاست میں عبری اور دوسری زبانوں میں شائع ہونے والے رسائل و اخبارات کے ذریعے ـ خاص طور پر 2006 کی 33 روزہ جنگ کے بعد ـ سید حسن نصراللہ کو بدنام کرنے کے لئے بہت زیادہ کوششیں کی جاتی ہیں لیکن مقبوضہ سرزمین میں ہونے والے سروے کے مطابق فلسطین میں رہنے والے یہودی بھی سید حسن نصر اللہ پر اپنے حکام سے کہیں زيادہ بھروسا کرتے ہیں اور ان کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں۔