Monday, 6 January 2014

آل سعود پر روس کی اتمام حجت: سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو تکلیف دہ جواب دیں گے

آل سعود پر روس کی اتمام حجت: سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو تکلیف دہ جواب دیں گے


اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ولگا گراد میں بم دھماکوں پر باضابطہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس آل سعود کے زیر سرپرستی دہشت گردوں کو دردناک اور تکلیف دہ جواب دیں گے۔
اخبار الاوسط نے روسی شہر میں دو دہشت گردانہ حملوں پر صدر ولادیمیر پیوٹن کے رد عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان واقعات کا ماسٹر مائند آل سعود کے زیر فرمان دہشت گرد ہیں اور انہیں بہت جلد نہایت دردناک اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا: ولگا گراڈ کے دھماکوں کے بارے میں کسی قسم کی تفتیش و تحقیق کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ دھماکے بالکل اسی قسم کے تھے جو ہر روز عراق، شام اور لبنان میں ہورہے ہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ ان دھماکوں کے پس پردہ کون ہے؟
صدر پیوٹن نے کہا: میں مجرموں کو مزید موقع نہیں دوں گا اور ہمارا جواب بہت جلد مشرق وسطی کا نقشہ بدل دے گا اور روس کے فرزندوں کے لئے میرا وعدہ ہے۔ 
دریں اثناء قبل ازیں وفاقی روس کے سیکورٹی ادارے کے ڈائریکٹر "الکزینڈر پورتینکوف" نے روس میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں اپنی اخری رپورٹ صدر پیوٹن کو پیش کی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق ان دھماکوں میں سے ایک دھماکہ شام میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولے کے ایک رکن دہشت گرد نے کیا تھا۔ 
اسی سلسلے میں آفاق ٹیلی ویژن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صدر پیوٹن کے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے پھیلاؤ کے لئے مالی امداد فراہم کرنے اور انسانی حقوق کے خلاف جرائم کا ارتکاب کا ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے، سعودی عرب پر حملہ کریں گے۔
مشرقی یورپ کی چیک جمہوریہ کے رہنے والے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کہا کہ ولگا گراد کے دھماکوں کی نشانیاں شمالی قفقاز اور چیچنیا تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان واقعات کے تانے بانے سعودی عرب سے جا ملتے ہیں۔
چیک تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات کے پس پردہ عوامل تک پہنچنے کے لئے اس مکالمے کی طرف توجہ دینی چاہئے جو بندر بن سلطان کے دورے اور پیوٹن کے ساتھ ان کی ملاقات میں انجام پایا تھا اور بندر نے مختلف قسم کی تجاویز پیش کرکے شام کے سلسلے میں روس کا موقف بدلنے کی کوشش کی تھی لیکن پیوٹن کا چیال ہے کہ شام کے موجودہ حکمران شامی عوام کے لئے بہترین ہیں اور ان کا کوئی متبادل نہيں ہے۔ 
ولگا گراد میں حالیہ دو دھماکوں کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک اور 102 زخمی ہوئے تھے۔


No comments:

Post a Comment