Friday, 10 January 2014

شام: حلب میں 400 دہشت گرد ہلاک/ دہشت گردوں کی باہمی لڑائی جاری ہے

شام: حلب میں 400 دہشت گرد ہلاک/ دہشت گردوں کی باہمی لڑائی جاری ہے
 شام: حلب میں 400 دہشت گرد ہلاک/ دہشت گردوں کی باہمی لڑائی جاری ہے
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے 400 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں اور دوسری تنظیموں نے داعش کے ٹھکانوں پر قبضہ کرکے اس تنظیم کو دہشت گردوں کو مختلف علاقوں سے مار بھگایا ہے۔
جن تنظیموں نے تکفیری دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر قبضہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس تنظیم نے مختلف تنظیموں کے پچاس افراد کو ایک اسپتال میں کچھ عرصہ قید رکھنے کے بعد قتل کیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ دن پہلے موصولہ اطلاعات کے مطابق داعش نے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے 50 خبرنگاروں کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔
حلب میں داعش کے خلاف لڑنے والی دہشت گرد تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ داعش نے ان تنظیموں کو درجنوں افراد کو قید کرلیا ہے جبکہ داعش کا کہنا ہے کہ فری سیرین آرمی نے اس کے متعدد افراد کو پھانسی دی ہے۔
تکفیری گروپ "داعش" اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے درمیان لڑائی گذشتہ روز جمعہ سے شروع ہوئی ہے اور اب تک فریقین کے 400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
بعض تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلب میں بےشمار مسلح دہشت گردوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ 
شام: حلب میں خونی جھڑپوں کے بعد آپس کی لڑائی دمشق کے نواح میں

اطلاعات کے مطابق داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کی باہمی لڑائی دمشق کے نواح تک پہنچ گئی ہے اور وہاں بھی داعش کے متعدد ٹھکانوں پر دوسری تنظیموں نے کنٹرول حاصل کیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حلب میں سینکڑوں دہشت گردوں کی ہلاکت پر منتج ہونے والی لڑائی دمشق کے نواحی علاقے تک پہنچ گئی ہے اور القاعدہ کی ذیلی تنظیم جبہۃالنصرہ اور ترکی و مغرب کی حمایت یافتہ تنظیم آزاد شامی فوج (فری سیرین آرمی) نے مل کر داعش کے متعدد ٹھکانوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ان جھڑپوں میں دیرالزور میں احرار الشام نامی دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ بھی ہلاک ہوچکا ہے۔

داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جنگ پچھلے ہفتے سے جاری ہے اور حلب کے علاقے میں اس جنگ کے دوران برسرپیکار تنظیموں کے 400 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
خبر کی تفصیل:
شام: دو آذری دہشت گرد شامی فوج کے حملے میں ہلاک

جمہوریہ آذربائی جان کے دو دہشت گرد ـ جو شام پہنچ کر القاعدہ کی ذیلی شاخ جبہۃالنصرہ میں شامل ہوچکے تھے ـ شامی افواج کے حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آذربائی جان کے ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ اس جمہوریہ کے دو دہشت گرد "نامیک عسکروف" اور "سلطان المعروف سیف آذری" ـ شام جاکر دہشت گرد تنظیم جبہۃالنصرہ میں شامل ہوچکے تھے ـ اس تنظیم کے ٹھکانوں پر سرکاری افواج کے حملے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
خبر کی تفصیل کے لئے رجوع کریں:
شام: دہشت گرد ترکی کی جانب بھاگنے لگے/ حلب داعش سے خالی

اطلاعات کے مطابق بعض مسلح گروہوں میں شامل دہشت گرد جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد ترکی کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام میں دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد متعدد دہشت گردوں ترکی کی سرحدوں کی طرف فرار ہوگئے ہیں جن میں احرار الشام نامی دہشت گرد تنظیم کا ایک سینئر کمانڈر بھی شامل ہے۔

ادھر شام کے فوجی ذرائع نے حلب کے علاقے "الراشدین" میں "نورالدین زنگی یونٹس" نامی دہشت گرد تنظیم کے آپریشن کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

شام مخالف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے "سیرین ہیومین رائٹس واچ" نامی ادارے نے کہا ہے کہ حلب شہر دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام" (داعش) نامی دہشت گرد تنظیم کے جنگجؤوں سے خالی ہوچکا ہے اور داعش کے اراکین دوسری تنظیموں سے لڑنے کے بعد اس شہر سے فرار ہوچکے ہیں۔ 
خبر کی تفصیل کے لئے رجوع کریں:
سیدہ سکینہ(س) کے حرم مطہر کو دہشت گردوں سے آزاد کرالیا گیا

شام کی سرکاری افواج نے دارالحکومت کے مغربی نواح میں داریا کے علاقے میں کاروائی کرکے حضرت سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کے گرد سیکورٹی حلقہ قائم کیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کی افواج نے دارالحکومت دمشق کے مغربی نواحی علاقے "داریا" میں کاروائی کرکے سیدہ سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کو دہشت گردوں سے آزاد کرایا ہے اور العالم کی ٹیم سب سے پہلی ٹیم تھی جو حرم میں داخل ہوکر وہاں کی تصویریں بھجوادیں۔

اطلاعات کے مطابق حرم کے گنبد اور اس کے اندرونی حصوں کو تکفیری دہشت گردوں نے بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

العالم کے مقامی ڈائریکٹر نے حرم سیدہ سکینہ(س) سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا: شہر "داریا" سیدہ سکینہ سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر کے حوالے سے عالمی شہرت کا حامل ہے تاہم تکفیریوں نے اس شہر پر قبضہ کیا تو اس شہر کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں شدید ترین جھڑپیں ہوئی اور مسلح تکفیری دہشت گردوں نے حرم میں داخل ہوکر اس کو بھاری نقصان پہنچایا اور اس کو اپنے ہیڈکوارٹر میں بدل دیا۔

No comments:

Post a Comment