Monday, 6 January 2014

آل سعود پر روس کی اتمام حجت: سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو تکلیف دہ جواب دیں گے

آل سعود پر روس کی اتمام حجت: سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو تکلیف دہ جواب دیں گے


اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ولگا گراد میں بم دھماکوں پر باضابطہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس آل سعود کے زیر سرپرستی دہشت گردوں کو دردناک اور تکلیف دہ جواب دیں گے۔
اخبار الاوسط نے روسی شہر میں دو دہشت گردانہ حملوں پر صدر ولادیمیر پیوٹن کے رد عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان واقعات کا ماسٹر مائند آل سعود کے زیر فرمان دہشت گرد ہیں اور انہیں بہت جلد نہایت دردناک اور تکلیف دہ جواب دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا: ولگا گراڈ کے دھماکوں کے بارے میں کسی قسم کی تفتیش و تحقیق کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ دھماکے بالکل اسی قسم کے تھے جو ہر روز عراق، شام اور لبنان میں ہورہے ہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ ان دھماکوں کے پس پردہ کون ہے؟
صدر پیوٹن نے کہا: میں مجرموں کو مزید موقع نہیں دوں گا اور ہمارا جواب بہت جلد مشرق وسطی کا نقشہ بدل دے گا اور روس کے فرزندوں کے لئے میرا وعدہ ہے۔ 
دریں اثناء قبل ازیں وفاقی روس کے سیکورٹی ادارے کے ڈائریکٹر "الکزینڈر پورتینکوف" نے روس میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں اپنی اخری رپورٹ صدر پیوٹن کو پیش کی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق ان دھماکوں میں سے ایک دھماکہ شام میں سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولے کے ایک رکن دہشت گرد نے کیا تھا۔ 
اسی سلسلے میں آفاق ٹیلی ویژن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صدر پیوٹن کے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے پھیلاؤ کے لئے مالی امداد فراہم کرنے اور انسانی حقوق کے خلاف جرائم کا ارتکاب کا ذمہ دار ہونے کی حیثیت سے، سعودی عرب پر حملہ کریں گے۔
مشرقی یورپ کی چیک جمہوریہ کے رہنے والے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کہا کہ ولگا گراد کے دھماکوں کی نشانیاں شمالی قفقاز اور چیچنیا تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان واقعات کے تانے بانے سعودی عرب سے جا ملتے ہیں۔
چیک تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعات کے پس پردہ عوامل تک پہنچنے کے لئے اس مکالمے کی طرف توجہ دینی چاہئے جو بندر بن سلطان کے دورے اور پیوٹن کے ساتھ ان کی ملاقات میں انجام پایا تھا اور بندر نے مختلف قسم کی تجاویز پیش کرکے شام کے سلسلے میں روس کا موقف بدلنے کی کوشش کی تھی لیکن پیوٹن کا چیال ہے کہ شام کے موجودہ حکمران شامی عوام کے لئے بہترین ہیں اور ان کا کوئی متبادل نہيں ہے۔ 
ولگا گراد میں حالیہ دو دھماکوں کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک اور 102 زخمی ہوئے تھے۔


Sunday, 5 January 2014

عراق: تکفیریوں کے خلاف سنی ـ شیعہ اتحاد/ فلوجہ تکفیریوں سے آزاد/ متعدد تکفیری کمانڈر ہلاک

عراق: تکفیریوں کے خلاف سنی ـ شیعہ اتحاد/ فلوجہ تکفیریوں سے آزاد/ متعدد تکفیری کمانڈر ہلاک
  اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا سے لے کر مشرق وسطی تک اسلامی سرزمینوں کو بدترین صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ تکفیری گروپ پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور لبنان میں سرگرم ہیں اور آل سعود سمیت خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے حکمران ان تکفیریوں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں گوکہ مسئلے میں تھوڑا سا غور کرکے معلوم ہوتا ہے کہ اس بھونڈے فعل میں ان کا کوئی مفاد نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ یہودی ریاست کے بچاؤ اور امریکی تسلط کا تحفظ کرنے کے لئے ہورہا ہے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں اور یہ حکمران بھی جانتے ہیں کہ تکفیری دہشت گردوں کے پالنے سے پالنے والوں کو عظیم ترین نقصانات اٹھانا پڑ  سکتے ہیں اور آج بعض مسلم ممالک دہشت گردوں کی تربیت کی قیمت اندرونی بدامنی اور معاشی و معاشرتی بدحالی کی صورت میں ادا کررہے ہیں اور یہ صورت حال ان کے ممالک میں بھی رونما ہوسکتی ہے گوکہ بعض اوقات دہشت گردوں کی حمایت کی قیمت بیرونی حملوں کی صورت میں بھی ادا کرنا پڑتی ہے جس کی مثالیں کم نہیں ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں<
عراق اور شام کو خاص طور پر دشوار صورت حال کا سامنا ہے اور لبنان کو بھی اسی قسم کی حالت کا سامنا ہے۔ دشمن گھر میں گھس کر گھر کے ایک رکن کے طور پر دشمنی کرنا چاہتا جس کی وجہ سے بعض گھر والے بھی اس کو گھر کا رکن سمجھ کر گھروالوں کے خلاف ہوجاتے ہیں اور یہ اسرائیلی اور امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس نے دوست اور دشمن کی جگہ مسلم اقوام کے لئے بدل دی ہے اور دشمن دوست بن گیا ہے اور دوست کو اوہام و ظنون کے اس طوفان میں دشمن کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ فرقہ واریت وہ عذاب ہے جس کے ضرر و زیان سے سب آگاہ ہیں اور سب اس انگریزی فارمولے سے واقف ہیں اور اس کو دہراتے ہیں کہ Divide and Rule اختلاف ڈالو اور حکومت کرو لیکن عملی طور پر دشمنان اسلام کے اس قاعدے کے نفاذ کے لئے کام کرتے ہیں یا پھر خاموش رہ کر اس کے نفاذ میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔
ویسے تو امت کے ہمدردوں نے چلا چلا کر سب کو بتایا کہ شام میں دہشت گردوں کی حمایت نہ کرو ورنہ جنہوں نے یہ آگ بھڑکائی ان کا دامن بھی پکڑ لے گی اور خطے کے دوسرے ممالک کو بھی متاثر کرے گی لیکن دہشت گردوں کے حامی نہ مانے اور آج نہ صرف دہشت گردی کا حامی ملک ترکی مسائل سے دوچار ہوگیا ہے بلکہ دہشت گردوں کے حامی عراق کو بھی اسی آگ میں دھکیل رہے ہیں اور اس ملک کے حالات خراب کئے جارہے ہيں چنانچہ عراقیوں نے پڑوسیوں کی عدم خیرسگالی اور پرامن بقائے کے اصولوں کی پامالی سے مایوس ہوکر خود ہی اپنے بچاؤ کی تدبیر کی اورآل سعود اور قطر کے حمایت یافتہ دہشت گردوں پر ایسے حال میں ہلہ بول دیا کہ انھوں نے طے کيا تھا کہ تین ہفتے بعد صوبہ الانبار میں حکومت تشکیل دیں گے اور ایک عرب ریاست بھی اس کو فوری طور پر تسلیم کرے گی لیکن اب ان کا یہ سپنا دھرا کا دھرا رہ گیا ہے۔
عراقی فوج، پولیس اور سنی و شیعہ قبائل نے ایک اتحاد تشکیل دیا اور اس اتحاد نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا اور صرف کل کل کے دن القاعدہ یا داعش کے 100 دہشت گرد مارے گئے جن میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کرائے کے دہشت گرد بھی شامل تھے اور فلوجہ اور رمادی میں ان مقامات کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے جن پر داعش نے پرچم لہرائے تھے اور اپنے طرز کی اسلامی حکومت کا اعلان کیا تھا۔ 
رائٹرز کے مطابق دہشت گردوں نے جمعہ کے دن سیاہ لباس میں ملبوس کرکے کئی جگھوں اسلحہ کی نمائش کی لیکن ہفتے اور اتوار کو حالات بدل گئے۔ کیونکہ سنی اور شیعہ قبائل اور سرکاری افواج متحد ہوئے اور انھوں نے غیر ملکی ایماء پر عراقیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ جنگ کا آغاز کیا۔
اطلاعات کے مطابق سنی عمائدین نے کہا ہے کہ ان کے مرکزی حکومت کے ساتھ کچھ اختلافات بھی ہیں لیکن القاعدہ کا خطرہ ان اختلافات سے کہيں زیادہ بڑا ہے چنانچہ ابتدائی طور پر عراق کو دہشت گردوں سے خالی کرایا جائے گا اور اسکے بعد حکومت کے ساتھ اپنے مطالبات کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔
ادھر عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ وہ الانبار اور سنی قبائل کے حقیقی فرزندوں کے ساتھ بات چـیت کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن وہ ان لوگوں کے ساتھ ہرگز بات چیت نہيں کریں گے جو غیر ملکوں کے مفادات کے لئے اپنے ملک کو بدامنی سے دوچـار کر رہے ہیں۔
سنی قبائل نے کہا ہے کہ انھوں نے القاعدہ کے دہشت گردوں کو اپنے ہمدردوں کے عنوان سے کافی عرصے سے پناہ دے رکھی ہے لیکن ان کی درندگی اور غیر انسانی کرتوتوں کو دیکھ کر اب وہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ پورے عراقی عوام کے لئے مشترکہ خطرہ ہے جس سے سب کو مل کر نمٹنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ عراق میں القاعدہ کے کئی اہم کمانڈر ان ہی دنوں کاروائی کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ الانبار کے چالیس اراکین پارلیمان نے القاعدہ کے خلاف فوجی کاروائی پر احتجاج کرتے ہوئے استعفے دیئے تو عراقی فوج الرمادی اور الفلوجہ اور دیگر علاقوں سے پسپا ہوئی لیکن ان کے پسپا ہوتے ہی القاعدہ کے دہشت گردوں نے ان شہروں پر قبضہ کیا جس کی وجہ سے نوری المالکی نے پسپائی کی ہدایات واپس لیتے ہوئے فوج کو ایک بار پھر شہری علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کا حکم دیا اور کہا کہ علاقے کے تمام سنی قبائل کے زعماء نے فوجوں کے انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے فوجی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
الانبار کے ایک قبیلے کے سربراہ نے نام نہ بتانے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا: القاعدہ کو الانبار میں ٹھکنے کی جگہ نہيں دی جاسکتی۔۔۔ گھمسان کی جنگ ہورہی ہے اور القاعدہ کے دہشت گرد رہائشی علاقوں میں چھپ گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ لڑائی پیچیدہ بھی ہے کیونکہ فوج کو عوام کی جان و مال کا خیال ہے چنانچہ وہ اندھادھند کاروائی نہيں کرسکتی۔
ادھر ایک قبیلے کے سربراہ اور قبائلی فورسز کے کمانڈر شیخ رافع عبدالکریم ابوفهد نے کہا: یہ انتہا پسند مجرم ہیں جو شہروں کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان شہروں کے تمام باشندوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔
ادھر آژانس فرانس پریس کے مطابق الصحوہ (بیداری) فورسز کے ترجمان شیخ احمد ابو ریشہ نے کہا کہ دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش) کی دہشت گرد تنظیم کے 62 اہم دہشت گرد مارے گئے ہیں جن میں الانبار میں داعش کا کمانڈر ابو عبدالرحمن البغدادی بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ الصحوہ فورسز اہل سنت کے مختلف قبائل کے جوانوں سے تشکیل یافتہ ہیں جنہوں نے آج سے کئی سال قبل انتہا پسند دہشت گردوں کو کچلنے میں مرکزی حکومت کی مدد کی تھی۔
کہ دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش) کا ابتدائی نام داع تھا یعنی دولۃ الاسلامیۃ في العراق لیکن شام میں صہیونی ـ یہودی ریاست کے تحفظ کے لئے قطر، سعودی عرب اور ترکی کی طرف سے جنگ کا آغاز ہوا تو اس دہشت گرد تنظیم نے اپنا نام بدل دیا اور کہ دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام (داعش) کہلائی گوکہ شام کی حد تک ایمن الظواہری نے اس گروہ کی کاروائیوں کو ناجائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو عراق تک محدود رہنا چاہئے لیکن شام کی حدود میں داعش اب القاعدہ کی باغی شاخ سمجھی جاتی ہے جبکہ جبہۃالنصرہ کو الظواہری کی حمایت حاصل ہے۔

عراق: فلوجہ کو القاعدہ کے دہشت گردوں سے چھڑا لیا گیا
فلوجہ کے قبائل نے اعلان کیا ہے کہ یہ شہر مزید القاعدہ کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق سعودی چینل العربیہ نے فلوجہ کے قبائلی زعماء کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یہ شہر القاعدہ کے مسلح دہشت گردوں کے کنٹرول میں نہیں رہا۔
یہ خبر ایسے حال میں منظر عام پر آئی ہے کہ عراقی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ شام اور اردن سے ملنے والے صوبے الانبار میں کاروائی کے دوران القاعدہ کی ذیلی تنظیم داعش کے 55 دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں۔
تفصیل کے لئے رجوع کریں

سعودی عرب کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔

سعودی عرب کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے
 روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے روسی شہر وولگوگارڈ میں ہوئے حالیہ حملوں میں سعودی عرب کا ہاتھ ثابت ہونے کے حوالے سے کہا کہ سعودی عرب کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ 

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس کے صدر جمہوریہ ولادیمیر پوٹن نے وولگوگارڈ میں ہوئے حالیہ حملوں کے بارے میں کہا کہ ان دھماکوں کے بارے میں تحقیق کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ ان کے مشابہ دھماکے شام، عراق اور لبنان میں ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں روس کے لوگوں کو وعدہ دیتا ہوں کہ ہم مجرموں کو امان نہیں دیں گے اور وولگو گارڈ میں دھماکے کرانے والوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچا کر چھوڑیں گے۔روس کے صدر کا یہ بیان ایسے حال میں سامنے آیا جب سعودی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اور انٹیلی جنس کے سربراہ بندر بن سلطان کی پوٹن سے ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق بندر بن سلطان نے اس دھماکے سے پہلے روس کو دھمکی دی تھی۔روسی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ وولگوگارڈ کے دھماکوں میں سعودی عرب کا ہاتھ واضح ہے لہذا سعودی عرب کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔

روس: دہشتگردانہ بم دھماکوں میں سعودی عرب ملوث

روس: دہشتگردانہ بم دھماکوں میں سعودی عرب ملوث

 ابنا: زیمانیک نے کہا ہے کہ روس کے جنوبی شہرولگوگراڈ میں ہونے والے بم دھماکوں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہےکہ ان بم دھماکوں کے ذمہ دار چیچن ہیں لیکن اس دہشتگردی کا سرا دراصل سعودی عرب سے جاملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، شام میں شکست کھانے کے بعد اب روس سے انتقام لے رہا ہے۔ جمہوریہ چک کے اس سیاسی مبصر اور صحافی نے کہا کہ صہیونی ریاست اور سعودی عرب مشترکہ ہدف کے لئے متحد ہوچکے ہیں اور یہ ہدف شام اور ایران کے خلاف جنگ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور صہیونی ریاست، ایران اور شام کو اپنے راستے میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

Friday, 3 January 2014

جب ہجرت پیغمبر(ص) ربیع الاول میں ہوئی تو کیوں اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم کو قرار دیا گیا؟

جب ہجرت پیغمبر(ص) ربیع الاول میں ہوئی تو کیوں اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم کو قرار دیا گیا؟

ابنا: علیکم السلام

پہلے سوال کا جواب: پیغمبر اکرم(ص) نے ۲۶ صفر کو مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تین دن غار ثور میں رہے اور پہلی ربیع الاول کو مکہ کی سرحد سے نکل کر یثرب میں داخل ہوئے اور ۸ ربیع الاول کو مدینے کے قریب قبا نامی جگہ پر مسجد قباء کی بنیاد ڈالی اور ۱۲ ربیع الاول کو مدینے میں پہنچے۔

دوسرا سوال یہ کہ جب ہجرت ماہ ربیع الاول میں ہوئی تو کیوں ماہ محرم کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا؟ اس سوال کے جواب میں یوں عرض کیا جائے کہ مسلمانوں نے واقعہ ہجرت کو اسلامی تاریخ کا مبداء قرار دیا ناکہ سال کا پہلا مہینہ۔ چونکہ پیغمبر کے دور بلکہ آپ سے پہلے بھی عربوں کے یہاں سال کی ابتدا ماہ محرم سے ہی ہوتی تھی چونکہ عرب حج سے فارغ ہو کر ماہ محرم میں اپنے تجارتی کاروبار کا آغاز کرتے تھے اس وجہ سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے تھے۔

تاریخ میں نقل ہے کہ حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں اکابر صحابہ منجملہ امیر المومنین(ع) کو بلوا کر اس سلسلے میں مشورہ کیا کہ اسلامی کلینڈر تشکیل دیا جانے کی صورت میں اسلام کے کس واقعے کو مبداءتاریخ قرار دیا جائےتو سب نے مختلف آراء پیش کیں لیکن کوئی رائے تصویب نہیں ہوئی بالاآخرے حضرت علی علیہ السلام کے مشورے سے ہجرت کو مبداء تاریخ اسلامی قرار دے دیا گیا۔ اور محرم چونکہ پہلے سے ہی سال کا پہلا مہینہ تھا اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں۔
 

عوام کے گھروں پر سکیورٹی فورس کے ناجائز چھاپے/ مظالم کے خلاف منامہ میں مظاہرے

عوام کے گھروں پر سکیورٹی فورس کے ناجائز چھاپے/ مظالم کے خلاف منامہ میں مظاہرے
 آل خلیفہ کے مزدوروں کے شہر الدراز میں لوگوں کے گھروں پر غیر قانونی طور پر چھاپے، ۱۰ جوان گرفتار/ منامہ میں نماز جمعہ کے بعد حکومت مخالف مظاہرے۔ 
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آل خلیفہ کے مزدوروں نے بحرین کے شہر الدراز  میں لوگوں کے گھروں پر ناجائز چھاپے مار کر ۱۰ جوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
بحرین کے سیاسی فعال افراد کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے گئے جوانوں میں سے دو جوانوں کو شدید مار پیٹ کیا ہے اور ان کے اہل خانہ کو ان کی وجہ سے سخت نگرانی لاحق ہے۔
بحرین کی سکیورٹی فورس نے جمعرات کو الدراز، بنی جمرہ،جنوسان، القدم، شہد اور دیگر علاقوں کا محاصرہ کیا تھا۔
جمعیت الوفاق نے اس کے رد عمل میں کہا ہے کہ لوگوں کے درمیان دھشت پھیلانا، غیر قانونی طور پر گھروں پر چھاپے مارنا اور جوانوں کو گرفتار کر کے انہیں مار پیٹ کرنا یہ اس حکومت کی ظالمانہ سیاسیت کا حصہ ہے جسے ملت بحرین تین سال سے بردارشت کرتی آ رہی ہے۔
الوفاق نے تاکید کی ہے کہ اس طرح کی گرفتاریوں کا سلسلہ گویا اس نظام حکومت کا اپنے شہریوں کے ساتھ ایک طرح کا رویہ ہے جس کی وجہ سے اس ملک کی جیلیں بحرینی جوانوں سے بھری پڑی ہیں۔
 معیت الوفاق کے سربراہ شیخ علی سلمان نے تاکید کی ہے کہ حکومت مخالفین قومی تحریک میں پر امن طریقے کے پابند رہیں گے اور کسی بھی طرح کی کشیدگی سے کام نہیں لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ملک میں سوائے ظلم اور جور کے اور کچھ نہیں دیکھ رہے ہیں اور یقینا اس صورت حال کو بدلنا 
ہو گا ہمیں امید ہے کہ نیا سال حقوق کی بازیابی کے لیے اس قوم کے حق میں ثابت ہو۔
ادھر منامہ میں آج نماز جمعہ کے بعد ہزاروں بحرینیوں نے  پر امن مظاہرے کر کے ’’آزادی، کرامت اور ڈیموکریسی‘‘ کے نعرے بلند کئے اور حکومت کی طرف سے مظاہرین کی سرکوبی کو حکومت کی کمزوری قرار دیا۔ مظاہرین نے  اس بات کا مطالبہ کیا کہ اگر حکومت ملک میں امن و شانتی چاہتی ہے تو عوام کے مطالبات پورا کرے اور ان کے ضائع شدہ حقوق انہیں واپس لوٹائے۔
 
کرسمس پائن پر سید حسن نصراللہ کی تصویر صہیونیوں کو تشویش!
اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک سنہ 214 کے آغاز سے پہلے یہودی ـ صہیونی ریاست کے ایک اخبار "یدیعوت آحارونوت" نے لبنان میں عیسائیوں کے جشن کرسمس کے سلسلے میں اپنے ایک مضمون میں ایک لبنانی عیسائی خاتون کے جشن کرسمس پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے اور اسلامی مزاحمت تحریک کے سربراہ اور حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے بارے میں لبنانی عیسائیوں کے جذبات پر روشنی ڈالی ہے۔
مذکورہ اخبار نے لکھا: لبنان کے ٹی وی چینل "المنار" نے گذشتہ برسوں کی طرح امسال بھی حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کے یوم ولادت کے موقع پر بیروت کے مختلف محلوں، دمشق کے گرجا گھروں اور فلسطین کے بیت لحم میں واقع المہد گرجاگھر میں بپا ہونے والے جشن کرسمس کو کوریج دی لیکن ان تمام رپورٹوں میں سب سے دلچسپ لبنانی عیسائی خاتون "رندہ غلام" کا گھریلو جشن تھا جو ہر سال کرسمس پائن پر سید حسن نصراللہ کی تصویر لٹکا کر اس موقع پر جشن مناتی ہیں۔  

عیسائی خاتون رندہ غلام کا کہنا ہے: میں کرسمس ٹری پر سید حسن نصراللہ کی تصویر اس لئے لٹکاتی ہوں کہ میں انہیں اللہ کی طرف سے اپنے لئے تحفہ سمجھتی ہوں، ہم ان پر حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ انھوں نے ہمارے لئے بہت بڑی کامیابیاں اور فتوحات حاصل کی ہیں اور بہت اہم فیصلے کئے ہیں۔ 
رندہ غلام جو عیسائیت کے آرتھوڈاکس فرقے کی پیروکار ہیں، کہتی ہیں: مختلف مواقع پر جب سید حسن نصراللہ کو عوام کے مجمع میں دیکھتی ہوں تو میں بہت اچھا محسوس کرتی ہیں اور میرے ہاتھ میں جو تسبیح ہے یہ وہ تحفہ ہے جو سید حسن نے مجھے عطا کیا ہے۔
 

ْ
رندہ غلام کہتی ہیں: میں منطقۃ الشرقیہ میں القداس نامی کلیسا میں جانا چاہتی ہوں اور صلح و امن کے لئے دعا کرنا چاہتی ہوں اور خدا سے التجا کرتی ہوں کہ نیا سال دنیا کے تمام انسانوں کے لئے فلاح و بہبود اور فراخی کا سال ہو کیونکہ خاص طور پر شام میں قتل عام اور کشت و خون کی وجہ سے کرسمس کی خوشیاں اس سال ادھوری ہیں۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ شام کے معلولا شہر سے دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والی راہبائیں جلد از جلد رہا ہوجائیں۔
قابل ذکر ہے کہ یہودی ریاست میں عبری اور دوسری زبانوں میں شائع ہونے والے رسائل و اخبارات کے ذریعے ـ خاص طور پر 2006 کی 33 روزہ جنگ کے بعد ـ سید حسن نصراللہ کو بدنام کرنے کے لئے بہت زیادہ کوششیں کی جاتی ہیں لیکن مقبوضہ سرزمین میں ہونے والے سروے کے مطابق فلسطین میں رہنے والے یہودی بھی سید حسن نصر اللہ پر اپنے حکام سے کہیں زيادہ بھروسا کرتے ہیں اور ان کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں۔